ه‍.ش. ۱۳۸۷ بهمن ۲۱, دوشنبه

ایرانی۔ انقلاب کے تیس سال بعد.....

ورنا بلوچ

یھ فروری کا مہینے اور1979کاسن تھا۔ سرزمین ایران پرایک اہم تاریخ رقم ہونے جارہی تہی۔ ایرانی انقلاب کے رہنما آیت اللھ خمینی پندرہ سال جلا وطنی کے بعد فرانس سے واپس تہران پہنج گئے تھے ۔ عوام کے ٹھہاٹے مارتے سمندر نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ ان دنوں میں شاہ ایران ملک سے بھا گئے پر مجبور ہوگیا اور اس کے وزیر و مشیر اپنی تمام تر کوششوں کے با وجود حالات پر قابو نہیں پہسکے۔ بالاخرھ 1فروی کو اسلام پسند حکومت پر قابض ہوگئے۔

انقلاب کے بعد ایک اعلی سطحی کمیئے بنائی گئی تا کہ چند مہینے کے اندر اندر ملک کے نئے آئین کو مرتب کیا جاسکے۔

انقلاب کے ایک سال بعد عوام کی بھاری اکثریت نے اپنے ملک کو '' اسلامی جمہوریہ ایران'' کا نام دے دیا۔

قانون ساز کمیٹی کے اراکین مختلف طبقوں اور صوبوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ایران کی دوسری مذہبی اکثریت اہل سنت والجماعت کی طرف سے مولاناعبدالعزیز بلوچ بھی اس کمیٹی کے رکن تھے۔

تاریخی دستاویز کے مطابق شاہ کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے اہل سنت نے شاہی سلطنت کے خلاف سرگرمیوں میں انقلابی لیڈروں کا ساتھ دیا۔ جب آیت اللہ خمینی عراقی شہر نجف میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھی توسنیون کے مذہبی لیڈر مولانا عبدالعزیز مرحوم نے وہاں جاکر انقلابیون سے اپنی حمایت کا اعلان کیاتھا۔

ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای انقلاب سے پہلے ایرانی بلوچستان میں روپوش تھے۔

انقلاب سے پہلے اور بعد خمینی صاحب نے اہل سنت کو یقین دہانی کرائی تہی کہ ان کے حقوق پہمال نہین ہوں گے ۔ مگر حیرت انگیز طور پر قانون سازی کے موقع پر سنی مسلمانوں کے حقوق کو یکسر نظرانداز کردیا گیا۔ پھر چشم فلک نے وہ منظر بھی دکھا جب جفا کی تیغ سے عہد وفا کاسینہ چیر دیا گیا۔

عیسائیت، یہودیت، پارسی اور تشیع قومی مذاہب ما نے گئے اور ایک ارب سے زائد سے زائد مسلمانوں کا مسلک غیر قومی اور غیر سرکاری مذہب قرارپایا۔ صدارت جیسےعہدون کے لیے شیعھ اثناعشری ہونا ضروری قرار دیا گیا تو مولانا عبدالعزیز مرحوم سمیت دیگر سنی لیڈرون نے شدید احتجاج کرنے ہوئے اسے اہل سنت کے حق تلفی قراردی۔ جب کسی نے ان کی نہ سنی تو انہمون نے اپنا استعفا پیش کرلیا۔

اس کے با وجود ایرانی آئین کی متعدد شقین ایران میں آباد اقلیتون کے حقوق کے بارے میں تاکید کرتی ہیں۔

آئین کے رو سے غیر شیعوں کے وزیر یا گورنر بننے پرکوئے پابندی نہین مگر تیس سال ایرانی انقلاب سے گزرنے کے با وجود آج تک کوئی سنی مسلمان وزارت، گورنری یا دیگر کلیدی عہدے پرفائز نہین ہوسکا۔

ستم بالائے ستم یہ کہ بعض خفیہ اداروں نے اپنے سیاسی و مذہبی مخالفین کو جوزیادہ تر سنی رہنما تھے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا یا اور بعض اوقات اسلامی، انسانی اور بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مساجد و مدارس کو بھی مسمار کرڈالے یا ہمیشہ کے لیے انہین تالا لگا کربند کردیا۔ چنانچہ سابق صدر خاتمی کے دور میں ایرانی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ''سعید امامی'' سنی رہنماؤں کے الزام میں گرفتار ہوا اور اعتراف جرم کے بعد پراسرار طور پر قیدخانہ میں مردہ پایا گیا۔

مجموعی طور پر ایران کے سنی باشندے جو ملک کی 25 فی صد آبادی کاحصھ ہیں، پر امن زندگی گزار رہے ہیں۔

تہران میں لاکھون سنی مسلمان مسجد کی نعمت سے محروم ہونے کے با وجود کسی بھی پر تشدد کار روائی سے گریز کرتے چلے آرہے ہیں۔ مگر کچھ عرصہ سے بعض ناخوشگوار واقعات کے رونما ہونے سے حالات کی ابتری کا اشارہ مل رہاہے۔ احمدی نژاد اپنے بیک گراؤنڈ کے لحاظ سے ایک سخت مزاج اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا شخص سمجھا جاتاہے۔ جب وہ منصب صدارت پرفائز ہوئے تو بعض کم ظرف حلقوں کو ایک سنہری موقع ہاتھ آیا جو صدر احمدی نژاد کی نیجے اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھا نے لگے۔

بدقسمتی سے ان عناصر نے پکٹردھکٹر کا سلسلہ شروع کرتے ہوہے متعدد سنی علمائے کرام اور سماجی و مذہبی رہنماؤن کو پابند سلاسل کردیا ۔ جبکہ گزشتہ دنوں میں بعض علمائے کرام اور صحافیون کے پھانسی دینے کی خبریں بھی منظر عام پر آئین ۔ نیز متعدد بڑے دینی مدارس کو بلڈوز کر کے زمین بوس کردیا گیا۔ بعض مساجد کے دروازوں پر تالے لگادیے گئے۔ فوجی آپریشن کا آغاز ہوا اور بدامنی کے واقعات میں تیزی آئی۔ ایسے میں بعض مسلح گروہوں نے اپنی کار روائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے انتقامی حملوں کا آغاز کیا۔ ایران کی تاریخ میں پہلی بار ایک خودکش حملہ ہوا جس 45 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم نے اس کار روائی کو دارالعلوم امام ابوحنیفھ کے مسمار ہونے اور بعض علمائے کرام کی شہادت اور پھانسی کا انتقام قرار دیا۔ اس سے پہلے حکومت نے ایک ایسابل پاس کیا ہے جس کے تحت تمام سنی دینی مدارس حکومتی کنٹرول میں جائیں گے۔

ان واقعات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت میں شامل بعض متعصب عناصر کی سر گرمیاں اور اہل سنت کی احساس محرومی، ایران میں مزید کشیدگی اور نا خوشگوار واقعات کے رونما ہونے کا باعث بن رہی ہیں۔ ایک طرف ایران کے مد مقابل مغربی ممالک ہیں تو دوسری طرف اسلامی و عربی ممالک اور اقوام اس کے آس پاس میں ہین۔ اگر حالات یوں ہی چلتے رہے اور مثبت تبدیلی کے بجائے سنیوں پر دباؤ بڑھتا رہا تو ظاہر سی بات ہے ایسے میں ایران تنہا رہ جائے گا۔ جو عناصر ایرانی اہل سنت کے آئینی حقوق کو پامال کر رہے ہیں وہ در حقیقت اپنا نقصان کر رہے ہیں اور دنیا میں ایران کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔

عالمی برادری خاص کہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں، قومی و مذہبی رہنماؤں اور صحافیوں کی ذمہ داری بنتی ہے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا‎ء کرتے ہوہے ہر سطح پر اپنی حد تک ایرانی گورنمنٹ کو اس اہم موضوع کی طرف توجہ دلائیں۔

هیچ نظری موجود نیست: